اسکیبیز کے خاتمہ کے لیے بائیو اسکیب کریم کا استعمال

0

اسکیبز جلد کی ایک ایسی بیماری ہے جس سے جلد میں خارش ہونے لگتی ہے۔ جلد اور خاص طور پر سر کی جلد میں یہ بیماری زیادہ پائی جاتی ہے۔ یہ بیماری جلد کے اندر ایک باریک کیڑے کی وجہ سے ہوتی ہے جسے اسکیبز کہا جاتا ہے ۔

جلد میں اسکیبز نامی کیڑا اپنی جگہ بنا لیتا ہے، اور پھر سارے جسم میں کھجلی کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ یہی نہیں یہ کیڑا انڈے بہت تیزی سے دیتا ہے اور اس کی نسل میں بہت جلد اضافہ ہوتا ہے ، جو جلد کو اندر سے خارش زدہ کردیتا ہے۔ کیڑے کے انڈے دینے سے جلد پر خارش ہونے لگتی ہے۔

یہ بیماری خطرناک صورت تو اختیار کرسکتی ہے لیکن جان لیوا ثابت نہیں ہوتی،یہی وجہ ہے کہ اس سے متاثرہ شخص خارش اور کھجلی کا شکار تو ہوتا ہے لیکن اسے کسی بڑی مشکل کا سامنا نہیں ہوتا۔یہ ایک ایسی بیماری ہے جو ذرا سی غفلت اور بے احتیاطی سے دوسرے شخص کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

بائیو اسکیب کریم، اسکیبیز کا بہترین علاج
:(no more scabies with bioscab cream)

بائیو لیب کی تیار کردہ بائیو اسکیب کریم ، اسکیبیز جیسے مرض کے لیے بطور خاص تیار کی گئی ہے۔
اس کی معمولی سی مقدار روزانہ کی بنیاد پر متاثرہ جگہ پر لگانے سے اسکیبیز کا مرض کچھ ہی دنوں میں دور ہوجاتا ہے۔
بائیو اسکیب کریم، غیر محسوس طریقے سے جلد میں جذب ہو کر اپنا اثر دکھاتی ہے اور مرض کو خیر باد کہتی ہے۔
بائیو سکیب کریم، اسکیبیز کی وجہ سے جلد پر جمنے والے کھرنڈ کو ختم کرتی ہے اور جلد پر ہونے والی انفیکشن کا بھی خاتمہ کرتی ہے۔
اسکیبیز کی وجہ سے جلد کی ہتھیلیوں کی اکھڑنے والی کھال کو بھی بائیو اسکیب کریم سے فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔
بائیوسکیب کریم ، کے استعمال کے کوئی بھی منفی اثرات نہیں ہیں، اس کے باوجود بھی اگر اسکیبیز کے مرض میں خارش، جلد کا سرخ ہونا یا پھر جلد کا رنگ تبدیل ہونا محسوس ہو تو فوری طور پر اس کا استعمال ترک کردیں اور اپنے قریبی ڈاکٹر سے مشورہ کریں ، اس کے بعد بائیو سکیب کریم استعمال کریں۔

اسکیبیز کےمرض میں احتیاطی تدابیر:(be careful while having scabies)

اگر کسی شخص کو اسکیبیز کا مرض لاحق ہوجائے تو وہ سب سے پہلے صفائی ستھرائی کا خیال زیادہ کرے۔
روزانہ کی بنیاد پر صاف اور میٹھے پانی سے نہائے اور کپڑوں کی صفائی کا بھی خاص خیال رکھے۔
اسکیبیزسے متاثرہ شخص کو چاہیے کہ وہ گھر کے دوسرے افراد سے دور رہنے کی کوشش کرے تاکہ یہ بیماری کسی اور میں منتقل نہ ہوسکے۔
اپنا تولیہ، بستر اور گلا س فوری طور پر الگ کرلے ، اس سے اسکیبیز کی بیماری کسی اور کو لگنے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔