خشک، خارش ذدہ جلد کے لیےفلوسن کریم کا استعمال

0

خارش کسی بھی قسم کی ہو انسان کو الجھن میں گرفتار کردیتی ہے، بہت سے لوگ ہمیشہ ہی جسم یا جلد پر خارش کا شکار رہتے ہیں ، ان کی جلد اتنی نازک ہوتی ہے کہ ہر موسم میں انھی جلد کے حوالے سے خارش کی شکایت رہتی ہے۔ خارش کی سب سے عجیب بات یہ ہے کہ اس میں جتنا کھجائو آرام محسوس ہوتا ہے لیکن بار بار یا زور سے کھجانے سے خارش کی جگہ سے اکثر خون بھی رسنے لگتا ہے ، اور کبھی کبھی وہ جگہ زخم کی صورت بھی اختیار کرلیتی ہے۔

بار بار کھجاتے رہنا متاثرہ شخص کے لیے بھی تکلیف دہ عمل ہوتا ہے اور دیکھنے والے کو بھی معیوب محسوس ہوتا ہے، لیکن خارش میں سکون ہی تب ملتا ہے جب اسے کھجایا جائے۔ خارش کی بہت سی اقسام اور وجوہات ہوتی ہیں جن کے بارے میں آگاہی ضروری ہے تاکہ کم سے کم یہ بات معلوم رہے کہ آپ جس خارش کا شکار ہیں اس میں کیا احتیاط اختیار کرنا چاہیے اور کن چیزوں سے بچنا چاہیے۔

خارش اور اس کی وجوہات

 خارش زیادہ تر جسم اور سر میں ہوتی ہے، سر میں اس کے ہونے کی سب سے بڑی وجہ جوئیں یا لیکھیں ہوتی ہیں جو انڈے دیتی ہیں اور اس سے جراثیم پھیلتے ہیں اورخارش کی ابتدا ہوتی ہے۔

ایسی جگہ جہاں بہت زیادہ لوگ ہوں، یا وہ بچے جو اسکول میں جاتے ہیں وہاں اور بہت سے بچوں کے ساتھ ان کا رابطہ رہتاہے اور ایک دوسرے سے یہ جوئیں اور لیکھیں منتقل ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں بچہ بار بار کھجاتا ہے اور پھر سر میں زخم بھی پیدا کرلیتا ہے۔

بڑوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہے وہ خواتین یا مرد جو اپنا جسم اور سر زیادہ دھونے سے اور نہانے سے کتراتے ہیں وہ اس بیماری کا اکثر شکار رہتے ہیں، اس کے علاوہ پیسنے کی وجہ سے بھی خارش ہوتی ہے ۔

خشکی اور خارش کی ایک وجہ کھارا اور بورنگ کا پانی بھی ہوتا ہے، جو جسم بالوں کو خشکی دیتا ہے اور خاص طور پر موسم سرما میں لوگوں کی  خارش کی شکایت زیادہ ہوتی ہے۔

خون میں کسی قسم کا انفیکشن بھی خارش کا سبب ہوتا ہے، اس کے علاوہ جلد کی بیماریوں میں ایگزیما، الرجی یہ سب جلد پر خشک خارش کو جنم دیتی ہیں۔

کچھ خواتین میک اپ کی سستی پروڈکٹ استعمال کرتی ہیں اور اس کے نتیجے میں جلد پر ری ایکشن ہوجاتا ہے ، جلد سرخ ہونے لگتی ہے اور خارش اس پر زیادہ ہوتی ہے۔

خشک اور خارش ذدہ جلد کا علاج

 خارش ہونے کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کوئی علاج ممکن نہیں، گھریلو ٹوٹکوں اور نسخوں سے خارش وقتی طور پر تو ٹھیک ہوسکتی ہے لیکن یہ اس کا مسلسل حل نہیں ہے۔

پہلے زمانے کی خواتین اور آج بھی کچھ لوگ خارش اور خشک خارش ہونے کی صورت میں تیل، ویسلین، لوشن وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں جو کسی حد تو فائدہ مند ہے لیکن ہر حالت میں فائدہ مند نہیں۔

فلوسن کریم خشک، خارش ذدہ جلد کا علاج

بائیو لیب کی تیار کردہ فلوسن کریم خارش کا ایک بہترین علاج ہے۔
اس میں شامل اجزا جلد کے اندر جذب ہوکر جلد پر خارش کی وجوہات کو ختم کر کے جلد کو پہلے جیسی حالت میں لاتے ہیں۔
فلوسن کریم جلد کو اندر سے نرمی دیتی ہے اور جلد کی خشکی کو ختم کرتی ہے۔
بار بار کھجانے سے جلد پر پڑجانے والے نشانوں کو دور کرنے کے لیے بھی فلوسن کریم اپنا کمال دکھاتی ہے۔
فلوسن کریم کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق کیا جائے تو فائدہ یقینی ہوتا ہے، کیوں کہ آپ کا معالج ہی آپ کی جلد کے بارے میں جانتا ہے۔
فلوسن کریم کے کچھ دن کے استعمال سے خارش ایسے ختم ہوتی ہے جیسے ہوئی ہی نہیں تھی۔