میلازما کی صورت میں جلد کو سورج سے کیوں بچانا چاہیے؟

0

سورج کی تیز شعاعیں جب زمین پر اپنا اثر دکھاتی ہیں تو سب کچھ جلا کر رکھ دیتی ہیں، پھول، پودے اورسبزیاں بھی اکثر اس کی زد میں آجاتی ہیں۔ اسی طرح انسانی جلد جو بہت نازک اور حساس ہوتی ہے وہ بھی سورج کی تپش کو نہیں سہہ پاتی، اور اکثر اس کے منفی اثرات جلد کو جھلسا کر رکھ دیتے ہیں۔

خواتین کے چہرے پر جھائیوں کی صورت میں دکھائی دینے والے گہرے بھورے دھبے جنھیں میلازما کہا جاتا ہے ، اپنا ڈیرہ جما لیتے ہیں اور حسن کو گہنا کے رکھ دیتے ہیں۔ میلازما کی ویسے تو بہت سی وجوہات اب تک سامنے آچکی ہیں لیکن سورج کی الٹراوائلٹ شعاعوں کو اس کا سب سے پہلا سبب تصور کیا جاتا ہے۔

دھوپ کی تپش کے علاوہ میلازما کو موروثی بیماری بھی تصور کیا جاتا ہے ، اس کے علاوہ ماں بننے والی خواتین جن کے ہارمونز غیر متوازن ہوتے ہیں وہ بھی میلازما کا بہت زیادہ شکار دکھائی دیتی ہیں۔

میلازما کی صورت میں جلد کو سورج سے بچانا :
(avoid sun uv rays in melasma)

٭ میلازما ظاہر ہونے کی صورت میں جلد کو سورج سے بچانے کی اہم وجہ ہے یہ کہ میلازما مزید بڑھنے سے رک جائے۔
٭ سورج کی تیز اور سلگتی ہوئی شعاعیں ہی میلازما کا سبب بنتی ہیں۔
٭ جب دھبوں کی صورت میں میلازما چہرے پر ظاہر ہوجائے تو اس کے علاج کے ساتھ ساتھ اس کی روک تھام بھی ضروری ہے۔
٭ سورج کی الٹراوائلٹ شعاعیں میلازما کا سبب بنتی ہیں، جس سے چہرہ بدنما اور بے رونق ہو جاتا ہے۔

میلازما کے لیے لازما کا استعمال : (use lazma cream in melasma)

٭ میلازما جلد کی وہ بیماری ہے جس کے علاج کے لیے لازما کریم بطور خاص تیار کی گئی ہے۔
٭ لازما کریم کا مسلسل آٹھ ہفتے استعمال میلازما کا خاتمہ کرنے کے علاوہ جلد کو صاف اور شفاف بھی بناتا ہے۔
٭ لازما کریم جلد کو منفی اثرات سے بھی پاک رکھتی ہے۔

میلازما سے بچائو : (avoid melasma)

٭ میلازما سے بچائو کی احتیاطی تدابیر میں سب سے پہلے تو اس بات کا خیال رکھیں کہ اگر آپ تیز دھوپ میں سفر کررہی ہیں تو گھر سے نکلنے سے پہلے سن اسکرین کا استعمال ضرور کریں۔
٭ چہرے ، ہاتھوں اور گردن پر اچھی اور معیاری کمپنی کا سن بلاک استعمال کریں تاکہ سورج کی الٹراوائلٹ شعاعیں جلد پر اپنا رنگ نہ جما سکیں۔
٭ اس کے علاوہ کوشش یہ کی جائے کہ زیادہ سے زیادہ پانی پیا جائے، پانی سے جلد اندرونی طور پر نمی حاصل کرتی ہے اور باہر سے جلد پر پڑنے والی گرم شعاعوں کا مقابلہ کرتی ہے۔
٭ کپڑے کی بجائے پسینے کو ٹشو پیپر سے صاف کیا جائے اور اسے بار بار استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔