کیل مہاسوں کے نشانات سے چھٹکارا حاصل کریں

0

ہر بیماری اپنی نوعیت کی ہوتی ہے، لیکن کچھ بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جو زیادہ تکلیف دہ تو نہیں لیکن ذہنی دبائو کا سبب ضرور بن جاتی ہیں۔ ایسی بیماریوں میں جلد سے متعلق بیماریاں قابل ذکر ہیں۔ خاص طور پر چہرے کی جلد پر دانوں، داغ دھبوں اور کیل مہاسوں کا ظاہر ہونا علاج کے ساتھ ساتھ انسان کو احساس کمتری میں بھی مبتلا کر دیتا ہے، خاص طور پر وہ خواتین جو اپنی جلد کے بارے میں حساس ہوتی ہیں ان کے لیے یہ صورت حال ان کے ذہنی دبائو کا سبب بھی بن جاتی ہے۔ وہ علاج کے ساتھ ساتھ اس پریشانی سے بھی دوچار رہتی ہیں کہ کہیں وہ کسی محفل میں نظر انداز نہ ہوجائیں۔ ان کی یہ سوچ بعض اوقات ان کے علاج میں بھی رکاوٹ بھی بن جاتی ہے۔

کیل مہاسوں کے نشانات سے کیسے نجات پائی جائے واقعی یہ خواتین کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، لیکن اگر مسئلے کا درست حل تلاش کرلیا جائے تو کیل مہاسوں کے نشان ایسے چھپ جاتے ہیں جیسے کبھی ظاہر ہی نہیں ہوئے تھے۔ ذرا سی توجہ، ذرا سی احتیاط، ذرا سا صبر اور ذراسی محنت آپ کے چہرے کو ایسا شاداب بنا سکتی ہے جیسے کھلا ہوا گلاب۔خوشنما، شاداب اور تروتازہ۔کیل مہاسے نمودار ہونے کی صورت میں اس کے بہتر علاج کی ضرورت ہے ، میک اپ سے اس کو چھپانا کوئی عقلمندی نہیں۔

کیل مہاسوں کی علامات

یہ زیادہ تر چہرے، ہاتھوں اور کمر پہ ظاہر ہوتے ہیں۔
یہ گہرے سیاہ دھبے چھالوں کی صورت بھی اختیار کرلیتے ہیں۔
کیل مہاسوں کے نمودار ہونے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔
نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس کے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

کیل مہاسوں کی وجوہات

غذا میں چکنائی کا زیادہ استعمال کیل مہاسوں کا سبب بنتا ہے۔
خواتین میں ہارمونز کی تبدیلی اور بے ترتیبی سے یہ زیادہ ابھر کر سامنے آتے ہیں۔
باہر کا کھانا کھانے سے کیل مہاسےجلد کے دشمن بن جاتے ہیں۔
ذہنی دبائو اور پریشانی کی وجہ سے یہ چہرے کو متاثر کرتے ہیں۔

مہاسوں کو نشانات سے بچائیں

سب سے پہلے اسکن کے کسی ماہر ڈاکٹر سے رابطہ قائم کریں۔
میک اپ کا استعمال فوری طور پر ترک کردیں۔
سرد اور ہوا دار ماحول میں زیادہ وقت گزاریں۔
کیل مہاسے اگر سینے یا کمر وغیرہ پر ہیں تو ڈھیلے کپڑے پہنیں تاکہ ہوا ان تک پہنچ سکے۔
تیز دھوپ ، گرمی اور خاص طور پر چولہے کے پاس جانے سے احتیاط کریں۔
کیل مہاسوں کو ہاتھ لگانے سے گریز کریں، اس سے جلد پر نشان رہ جاتے ہیں۔
اچھے اور معیاری صابن یا ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق لوشن یا کریم کا استعمال کریں۔