اپنی جلد کو سورج کی یو وی (uv)شعاعوں سے بچائیں

0

سورج کی جلتی ہوئی شعاعیں جنھیں یو وی یعنی الٹرا وائلٹ شعاعیں بھی کہا جاتا ہے، انسانی جلد کے لیے اس حد تک خطرناک ہوتی ہیں کہ کینسر جیسے مرض میں بھی مبتلا کردیتی ہیں۔ ہر سال سورج کی روشنی سے جلد جلنے سے جلد کے سرطان کا خطرہ بڑھ کر تین گنا ہوجاتا ہے۔ جلد کے نوے فی صد سرطانوں کا باعث زیادہ دھوپ ہے

جو لوگ بہت زیادہ دھوپ میں رہتے ہیں ان کی جلد میں الٹراوائلٹ شعاعیں ایک خاص قسم کے خلیے elastin کو تباہ کر دیتی ہیں۔ جیسے ہی یہ خلیے ختم ہوتے ہیں تو جلد میں لچک ختم ہو جاتی ہےاور جلد بری طرح متاثر ہونے لگتی ہے۔

مردوں کے لیے الٹراوائلٹ شعاعوں سے بچنے کا بہترین راستہ ڈاڑھی ہے ، ماہرین کی جدید تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ افراد جن کی ڈاڑھی ہوتی ہے چہرے کو سورج کی آنے والی 90 فیصد مضر شعاعوں سے بچا سکتی ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈاڑھی سن اسکرین کی طرح سن فیس نہیں ہوسکتی تاہم یو وی شعاعیں اس سے روک سکتی ہیں۔

یو وی شعاعوں کے نقصانات : (disadvantages of uv rays)

٭ سورج کی شعاعوں کے نقصانات بھی ہو سکتے ہیں جیسے جلد پر وقت سے پہلے جھریاں پڑجانا۔
٭ جلد کی اوپری سطح کاجل جانا۔
٭ جلد پر مختلف داغ دھبے پڑ جانا۔
٭ اس کے ساتھ ساتھ جلد کا سرطان بھی ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
٭ جلد کا پیلا پڑ جانا
٭ جلد کا دفاعی نظام متاثر ہونا۔
٭ جلد کے نیچے خون کی نالیوں کا پھیل جانا
٭ جلد کا لٹک جانا
٭ وقت سے پہلے بڑھاپے کے آثار۔
٭ یووی شعاعوں سے جلد کی نمی کا ختم ہونا۔
٭ دھوپ کی الٹرا وائلٹ روشنی جِلد کو نقصان پہنچاتی ہےاس سے جِلد کا لوچ اور تازگی ختم ہوجاتی ہے۔
٭ سورج کی شعائیں جلد کے اندر پہنچتی رہتی ہیںحتیٰ کہ آپ گھر کے اندر ہوں تب بھی جلد کو نقصان پہنچانے والی الٹرا وائلٹ شعائیں جلد کے اندر تک پہنچ جاتی ہیں۔
٭ نقصان دہ شعاعیں جسے عموماً الٹرا وائلٹ اے اور الٹرا وائلٹ بی کے نام سے جانتے ہیں، یہ انسانی جلد پر داغ ، سیاہ دھبوں اور جھریوں کا سبب بنتی ہیں۔
٭ ٭ الٹرا وائلٹ شعاعوں سے جلد میں موجود میلانن کی پیداوارزیادہ ہو جاتی ہے ، جوجسم میں ہائپر پگمینٹیشن کا باعث بنتی ہے ۔
٭ جب سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعیں براہ راست جلد پر اثر انداز ہوتی ہیں تو جلد پر میلازما جیسی بیماری سر اٹھاتی ہے۔

یو وی شعاعوں (uv rays) سے بچائو ، علاج اور احتیاط :

٭ سورج کی یو وی شعاعوں سے بچنے کے لیےصبح 10 سے دوپہر 2 بجے تک خاص طور پر سورج میں نکلنے سے پرہیز کریں۔ کیونکہ اس دوران سورج کی شعاعیں بے حد تیز ہو تی ہیں۔

٭ اگر آپ جلد میں تبدیلی دیکھیں تو فوراً ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں دھوپ کی جس قدر ضرورت ہے اسی کے ساتھ احتیاط بھی لازمی ہے۔

٭ اچھے اور معیاری میک اپ پروڈکٹ میں ایسے اجزاء شامل کیے جاتے ہیں جو ہونٹوں کو سورج کی روشنی میں شامل، مضر صحت الٹراوائیلٹ شعاعوں (یو وی ریز) سے محفوظ رکھتے ہیں، جس سے جلد کا رنگ کالا نہیں پڑتا اوران کی قدرتی خوبصورتی برقرار رہتی ہے۔
٭ تیز دھوپ میں جانے سےپہلے اچھے اور معیاری سن بلاک کا استعمال کریں۔
٭ اگر پکنک یا دھوپ میں مزید وقت گزارنا ہے تو ہر دو گھنٹے کے بعد سن بلاک چہرے اور ہاتھوں پر ضرور لگائیں۔
٭ ایسے میک اپ اور لیزر کا استعمال کریں جوالٹراوائلٹ شعاعوں کے خلاف حفاظت کرے۔
٭ ناشپاتی کا استعمال الٹرا وائلٹ ریز کے نقصانات سے جلد کو محفوظ رکھتا ہے۔
٭ ٹماٹر میں لائکوپین وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جو جلد کو الٹرا وائلٹ شعاعوں سے بچاتا ہے۔
٭ پھلوں میں سنگترے کا جوس زیادہ استعمال کریں یہ جلد کو جھریوں اور الٹرا وائلٹ شعاعوں سے بچاتا ہے۔
٭ ہلدی جلد کو دھوپ کی مضرِ صحت الٹرا وائلٹ شعاعوں سے محفوظ رکھ کر اسے جھلسنے اور مزید تباہی سے دور رکھتی ہے۔
٭ کچھ میک اپ کی مصنوعات میں بھی SPF شامل ہوتا ہے جس سے الٹرا وائلٹ شعاعوں سے جلد کو بچایا جا سکتا ہے۔