گردن کی جھریاں عمر کا بھید کھولتی ہیں

0

گردن دھوپ کی شعاعوں، ہوا، گرمی اور سردی کا شکار ہوتی رہتی ہے، گردن کی جلد میں جھریاں (neck wrinkles) پڑ جاتی ہیں، نسیں نظر آنے لگتی ہیں اور کچھ امراض کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں دراصل گردن کی یہی جھریاں عمر کا بھید کھولتی ہیں۔ کس عمر میں جھریوں کے آثار گردن پر نمایاں ہونا شروع ہوتے ہیں اور کیوں؟ اس سوال کا جواب پانے کے لیے ہمیں گردن کی قدرتی ساخت کو سمجھنا ہوگا۔ گردن میں چربی والے غدود بہت کم اور باریک ہوتے ہیں جن میں بہ مشکل گداز پایا جاتا ہے۔ ہتھیلیوں کی طرح گردن میں بھی صرف چند ہی چربی والے غدود ہوتے ہیں اور یہ اکثر خشک ہو جاتے ہیں اور کھنچائو کی صورت میں یہ بدنما قسم کے سرخ دھبوں کے فروغ کا سبب بن جاتے ہیں۔ کافی دیر تک سر کو جھکائے رکھنے خصوصاً لکھنے پڑھنے کے وقت یا پھر ٹیلی فون کا ریسیور کاندھوں اور کان کے درمیان رکھنے سے بھی گردن پر ہلکی ہلکی شکنیں پڑتی ہیں جو بعد میں نمایاں شکل اختیار کر لیتی ہیں لیکن اس کے علاوہ اور بھی کئی اسباب ہیں جس سے گردن پر جھریاں پڑنے لگتی ہیں۔ ان میں سے ایک سخت ورزش کرنا ہے جس سے پیٹھ پر اثر پڑتا ہے اور وہ عمر جس میں خواتین اپنی گردن کی جلد کو سوکھتے دیکھتی ہیں وہ 40 سال کی عمر ہے اور 50 سال کی عمر پر پہنچنے تک گردن پر فیصلہ کن مار پڑتی ہے اور اس کی کھال میں جھریاں اور سلوٹیں پڑ جاتی ہیں۔

 گردن کی لکیروں سے بچائو ( avoid neck wrinkles)

گردن کو لکیروں سے محفوظ رکھنے کے لیے ہمیشہ اپنا سر بلند رکھیں۔

تن کر کھڑے ہونے اور چلنے کا انداز گردن کی کھال کو سیدھا اور مضبوط رکھتا ہے۔

اگر آپ ٹھوڑی جھکائے رکھیں تو گردن پر شکنیں پڑنے اور جھریاں پڑنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

سونے کے لیے ہمیشہ ٹھوس اور چپٹا تکیہ استعمال کریں۔

گردن کی ورزش (neck exercise)

-1 گردن کو ہمیشہ تنی ہوئی حالت میں رکھیں تاکہ اس کی کھال لٹکے نہیں بالکل سیدھی ہو، خیال رکھیں کہ سر میں کوئی خم نہ ہو، اب سر کو بار باری، دائیں بائیں اور اوپر نیچے حرکت دیں یہ عمل تقریباً پانچ منٹ تک کریں۔

-2اپنے دونوں ہاتھوں سے کسی مضبوط چیز مثلاً گرل وغیرہ کو پکڑ کر اپنے جسم کو پیچھے کی جانب اس قدر جھکائیں کہ آپ کو اپنی گردن میں تنائو محسوس ہونے لگے یہ عمل چند سیکنڈ کے وقفے سے پانچ سے سات مرتبہ دوہرائیں۔ اس عمل سے ذہنی تھکن دور ہو گی اور گردن کی کھال میں لچک پیدا ہوگی۔

-3 گردن کو ایک بار گھڑی کی سمت اور دوسری بار گھڑی کی مخالف سمت گولائی میں حرکت دیں۔ یہ عمل پانچ سے سات بار دوہرائیں تاکہ خون کے بہائو میں یکسانیت پیدا ہو۔

-4اپنی انگلیوں کو ہلکے سے اپنے منہ کے کناروں پر رکھ لیں، اپنے دانتوں کو بھینچ لیں اور اوپری ہونٹ کو نیچے کی طرف کھینچیں تاکہ آپ کی گردن کے عضلات تن جائیں۔ ٥ تک گنتی گنیں اور اس عمل کو تین مرتبہ دوہرائیں۔

-5 گردن کے بائیں حصے پر اپنے داہنے ہاتھ کی پشت سے ہلکی ضرب لگائیں اور دائیں حصے پر بائیں ہاتھ کی پشت سے یہی عمل دُہرائیں اور باری باری ہر عمل پانچ مرتبہ کریں۔

-6 داہنے ہاتھ کی مٹھی بند کرلیں اور اسے ٹھوڑی کے نیچے رکھ لیں۔ نچلے جبڑے کو سختی کے ساتھ اپنی مٹھی پر جماتے اور زور ڈالتے ہوئے اپنا منہ کھولیں اس تنائو کو مختصر وقفے کے لیے برداشت کریں اور اس عمل کو تین مرتبہ دہرائیں۔

-7 اپنے سر کو پیچھے کی جانب جتنا کر سکیں کرلیں، اب اپنا منہ پورا کھول دیں پھر آہستہ آہستہ نچلے جبڑے کو اوپر لائیں اور منہ بند کر دیں۔ اس عمل کو تقریباً 6 مرتبہ دوہرائیں۔ اپنی گردن کو دائیں جانب جھکائیں اور پھر بائیں جانب کریں اس سارے عمل میں جھکائو کا عمل صرف چند سیکنڈ کا ہونا چاہیے۔ اس ورزش کو بھی 6 مرتبہ کریں۔