خوبصورتی گورے پن میں نہیں صاف جلد میں ہے

0

خوب صورتی یا کشش رنگ کے سفید ہونے میں نہیں بلکہ جلد کے بے داغ اور چمک دار ہونے میں ہے، سانولے رنگ والی خواتین اکثر زیادہ پر کشش لگتی ہیں۔ غور کریں تو ان کی جلد بے داغ، ہموار اور چمک دار ہوتی ہے لہٰذا چہرے پر پڑنے والا کوئی بھی داغ حسین شخصیت میں کمی لا سکتا ہے۔
ان کو دور کرنے کی طرف فوری توجہ دینا چاہیے۔ پہلے ہم ان وجوہ کا جائزہ لیتے ہیں جو عام طورپر داغ دھبوں اور جھائیوں کا باعث بنتی ہیں۔

جلد کی اندرونی خرابی کو وجوہات : (cause of skin impurities)

جھائیاں،یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر قسم کی جلد کے ساتھ در پیش ہے یعنی چکنی خشک یا ملی جلی کوئی بھی قسم ہو، یہ مسئلہ ہو سکتا ہے کیوں کہ اس کی وجوہ اندرونی اور بیرونی دونوں ہوتی ہیں۔
اندرونی وجوہ سے مراد ہارمون کا توازن بگڑ جانا، نیند کی کمی، خون میں آئرن کی کمی، مانع حمل ادویات یا کسی بھی دوا کا مسلسل استعمال، پانی کا نا کافی پینا، غذا کا متوازن نہ ہونا بھی ہو سکتا ہے۔

جلد کی بیرونی خرابی کی وجوہات : (cause of external skin impurities)

بیرونی وجوہ میں سب سے اہم عام دھوپ میں احتیاط نہ کرنا۔یا غیر معیاری آرائش حسن کی مصنوعات کو چہرے پر لگانا ہے، وجہ کوئی بھی ہو ان کا دور کرنا بے حد ضروری ہے ، ساتھ ہی یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ ان کا علاج ایک بار ہو جائے اور یہ ختم ہو بھی جائیں تو مسلسل توجہ رکھنا پڑتی ہے ورنہ یہ دوبارہ ہو جاتی ہیں۔

غیر معیاری میک اپ پروڈکٹ سے احتیاط: (low quality makeup product) 

٭ احتیاط علاج سے بہتر ہے، اپنے چہرے کو دھوپ سے اچھی طرح بچائیں اس سلسلے میں اپنےچہرے پر استعمال ہونے والی کوئی بھی مصنوعات چاہے جلد کی حفاظت کی ہو یا میک اپ کی ، غیر معیاری استعمال نہ کریں ۔
٭ کچھ شیڈ زاچھے لگنے پر خرید لیے جاتے ہیں مگر اس کا معیار اتنا خراب ہوتا ہے کہ وہ وقتی خوب صورتی تو دیتا ہے مگر داغ دھبے جلد میں نمایاں ہو جاتے ہیں۔
٭ مثلاً زیادہ تر گالوں پر استعمال کرنے والے بلشر اگر غیر معیاری ہوں ، تو دھوپ کو زیادہ جذب کرتے ہیں اس لیے داغ دھبے اور جھائیاں ہو جاتی ہیں۔
٭ دھوپ میں نکلتے ہوئے اپنے چہرے پر سایہ رکھیں اور مناسب سن بلاک ضرور لگائیں۔
٭ کاٹن کے کپڑے کا دوپٹہ یا اسکارف استعمال کریں ۔
٭ پولیسٹر یا نائلون ملے کپڑے کو چہرے کے ارد گرد لپیٹ کر نہ رکھیں، یہ ہر لحاظ سے غیر محفوظ ہوتاہے۔
٭ اپنی روز مرہ کی زندگی میں پانی کااستعمال کثرت سے کریں۔
٭ غذا کا خیال رکھیں یعنی متوازن خوراک لیں، چکنائی اور تیز مرچ مسالے نمک سے پرہیز کریں ۔
٭ اپنی نیند کا خیال رکھیں ، کوشش کریں کہ رات کو جلدی سوئیں اور صبح جلدی جاگیں۔
٭ دوائوں کا مسلسل استعمال بھی جھائیوں کا سبب ہو سکتا ہے۔اچھی طرح اپنے مسئلے کو پرکھیں اور اس وجہ کو دور کریں جو اس کا سبب ہے۔
٭ خواتین بازار سے ملنے والی عام بلیچ ، کریم مسلسل استعمال کرتی رہتی ہیں۔ جو بے حد خطرناک ہے کیوں کہ کم از کم ایک ماہ سے دو ماہ کا وقفہ ضروری ہے
٭ بلیچ کے بعد چہرے کو کم از کم ۸ گھنٹے تک دھوپ سے بچائیں، وہ چیزیں جو نقصان دہ ہیں۔ مثلاً اسکرب وغیرہ ان کو بھی روزانہ استعمال نہ کریں،
٭ جلد کے اوپر سے حفاظتی تہیں زبر دستی اتار دینے سے نازک جلد اوپر آجاتی ہے۔ جو بہت زیادہ توجہ اور نگرانی مانگتی ہیں۔
٭ یہ نازک جلد ہر طرح کے مسئلے کا شکار ہو سکتی ہے، اس لیے زبردستی اسکرب نہ کریں۔
٭ جلد پر کسی بھی قسم کے دانے نکلنے کی صورت میں اپنی طرف سے علاج نہ کریں بلکہ ایک بار فوری طور پر کسی جلد کے ماہر ڈاکٹر کو دکھائیں اور اس کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ کسی بھی میک اپ پروڈکٹ کو خریدنے سے پہلے اس کی جان کاری ضروری کرلیں، ضروری نہیں کہ میک اپ کی جو مصوعات آپ کی بہن یا کسی قریبی دوست کو سوٹ کرتی ہے وہ آپ کو بھی کرتی ہو۔
٭ اچھی جلد ایک بہت بڑی نعمت ہے، اس کی حفاظت اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہے ، جلد کی حفاظت کریں اور ہر محفل میں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنیں۔