ٹھنڈے پانی سے نہانا جلد کے لیے فائدہ مند

0

پانی وہ نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ زندہ رہنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے، اس کے علاوہ صحت، جلد اور بالوں کی نشوونما کے لیے بھی پانی سے زیادہ فائدہ مند شاید ہی کچھ اور ہو۔ پانی جسم اور جلد میں نمی پیدا کرتا ہے، جس سے صحت برقرار رہنے کے ساتھ ساتھ جلد بھی تندرست اور توانا نظر آتی ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے طبی ماہرین زیادہ سے زیادہ پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔

جلد کے اندر جتنی نمی ہوگی جلد اتنی ہی زیادہ باہر سے روشن اور چمک دار دکھائی دے گی۔ شگفتگی ا حساس پیدا ہوگا اور دیکھنے والا بھی جلد کی رونق دیکھ کر خوشی محسوس کرے گا۔ زیادہ پانی پینا جلد کو خشک ہونے سے بچاتا ہے، اور خشک جلد ہر طرح سے مشکل پیدا کرتی ہے، پانی کی کمی سے جلد نہ صرف بے رونق اور خشک ہوتی ہے بلکہ اندر سے اس کے مسام مردہ ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور جلد مزید روکھی نظر آنے لگتی ہے۔

بے رونق جلد پر میک اپ بھی اچھا نہیں لگتا، ماہر بیوٹیشن اپنے کلائنٹ کو ہمیشہ یہی مشورہ دیتی ہیں کہ اگر انھیں ایک ماہ بعد دلہن بننا ہے یا پھر کسی اور تقریب میں شرکت کرنی ہے تو پہلے سے ہی پانی پینے کی عادت ڈال لیں تاکہ خاص موقعے پر ان کی جلد چمک اٹھے۔

یہ بھی پڑھیں۔ جلد کی صحت آپ کی اندرونی صحت کو ظاہر کرتی ہے

پانی پینا ہی نہیں بلکہ پانی اور خاص طور پرٹھنڈے پانے سے منہ اور ہاتھ دھونے کے علاوہ نہانا بھی بہت فائدہ مند ہے۔ اس بارے میں بے شمار تحقیقی رپورٹ اب تک سامنے آ چکی ہیں جن میں ٹھنڈے پانی سے نہانے کو جلد اور جسم کے لیے بہترین قرار دیا جاتا رہا ہے۔

ٹھنڈے پانی سے نہانا کے فائدے :
(cold shower benefits your skin)

 

خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں جب سورج کی تپش زمین کو گرما کے رکھ دیتی ہے ایسے میں زمین پر بسنے والے لوگوں کا جو حال ہوتا ہے وہ سب جانتے ہیں، پسینے میں شرابور ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ ٹھنڈے ٹھنڈے پانی سے نہائے اور خود کو گرمی سے بچائے۔

طبی ماہرین کی رائے میں نیم گرم پانی جلد اور صحت کے لیے مفید ہے، لیکن جدید تحقیق نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ اگر کوئی شخص نیم گرم پانی سے نہائے تو آخر میں اس کو خاص طور پر چہرے کی جلد پر ٹھنڈے پانی کے چھپکے ضرور مارنے چاہیئں، اس سے جلد کے خلیوں کی حرکت بڑھ جاتی ہے۔جس سے چہرہ چمک اٹھتا ہے۔

کلک کریں ۔ السی کے تیل اورکیپسول کے صحت بخش فوائد

نیم گرم پانی اکثر جلد کو نقصان بھی پہنچا دیتا ہے، کبھی احساس ہی نہیں ہوتا اور خاص طور پر موسم سرما میں گرم پانی سے نہا کر سکون حاصل ہوتا ہے لیکن اس کے بعد تیز گرم پانی کی وجہ سے جب جلد خشک ہوتی ہے تو جلد کے خلیات سکڑنے لگتے ہیں، اس لیے بہتر یہی ہے کہ ٹھنڈا پانی استعمال کیا جائے یا پھر ہلکے گرم پانی سے غسل کیا جائے۔

لوگوں میں یہ بات عام سمجھی جاتی ہے کہ ٹھنڈا پانی جلد کے سوراخوں کو بند نہیں کرتا اور یہ کسی حد تک انسانی جلد کے لیے بہتر بھی ہے۔ لہٰذا گرم پانی کے مقابلے میں جتنا ممکن ہو ٹھنڈے پانی کا استعمال کیا جائے۔

اگر گرمی میں تیز شاور کے نیچے ٹھنڈے پانی سے آپ کو سکون مل رہا ہے تو یہ بات ذہن میں رکھیں کہ دس منٹ سے زیادہ ٹھنڈے پانی میں خود کو نہ رکھیں، اس سے جلد کو نقصان پہنچنے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔

ٹھنڈا پانی اور برف جلد کی گرمی اور جلن کو ختم کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ اکثر کسی میک اپ پروڈکٹ استعمال کرنے کی وجہ سے جب الرجی محسوس ہوتی ہے یا پھر جلد سرخ ہونے لگتی ہے تو اس پر برف رکھ کر اسے نارمل کیا جاتا ہے۔

طبی ماہرین نے اس بات کو بھی ثابت کردیا ہے کہ ٹھنڈا پانی جلد کے لیے بہت مفید ہے لیکن زیادہ نہانا اور بار بار نہانا بھی جلد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

ایسی خواتین جن کی جلد حساس ہے ان کو چاہیے کہ وہ چہرہ دھونے کے معاملے میں ٹھنڈے پانی کا سہارا لیں اس سے ان کی جلد تروتازہ اور شاداب رہے گی۔