شادی سے پہلے ناخنوں کی حفاظت کیسے کی جائے

0

ہر لڑکی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ حسین اور خوبصورت دکھائی دے، چاہے وہ گھریلو ہو یا ملازمت پیشہ، ایسی خواتین زیادہ توجہ کا مرکز بنتی ہیں جو خود پر توجہ رکھتی ہیں۔ خواتین کے بنائو سنگھار سب اپنی جگہ لیکن ان کے ناخن ان کی ساری شخصیت کے بارے میں بتاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ناخن بڑھا کر اسے نیل پالش سے مزید دلکش بناتی ہیں۔

وہ خواتین جن کے ناخن بار بار ٹوٹتے ہیں، پیلے یا نیلے پڑنے لگتے ہیں، ان پر نشان ظاہر ہوتے ہیں ، کمزور ہوتے ہیں یا پھر ان کی نشوونما رک جاتی ہے ایسے میںاگر وہ دلہن بنے جا رہی ہیں تو انھیں شادی (wedding day) سے پہلے ناخنوں پر توجہ کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔

شادی سے پہلے خواتین کو ناخنوں کی بہت حفاظت (nail care) کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ اپنے روزمرہ معمولات میں تبدیلی لائیں ۔

شادی سے پہلے ناخنوں کی حفاظت :
(taking care of nails before wedding)

٭ اگروہ گھر کے کاموں اور زیادہ وقت کچن میں گزارتی ہیں تو برتن دھونے کی ذمے داری اب کسی اور کے حوالے کردیں اور اپنے ناخن کو زیاد دیر پانی میں رکھنے سے بچائیں۔

٭ اگر ناخن بڑھنے کا عمل رکا ہوا ہے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں اور گھریلو علاج کے طور پر لہسن کو چھیل کر اسے ناخن پر رگڑیں اس سے ناخن بڑھتے بھی ہیں اور چمک دار بھی ہوجاتے ہیں۔

٭ اگر آپ کو دانت سے ناخن کترنے کی عادت ہے تو فوراً اس عادت کو ترک کردیں اس سے نہ صرف آپ کے ناخن خراب ہوتے ہیں بلکہ آپ کی شخصیت بھی متاثر ہوتی ہے۔

٭ کھانوں میں ایسی غذائیں استعمال کریں جن میں کیلشیم، آئرن اور وٹامن سی وافر مقدار میں پائے جاتے ہوں، یہ اجزا ناخنوں کی نشوونما کے ساتھ ساتھ ان کی خوبصورتی کو بھی بڑھاتے ہیں۔

٭ جو کام انگلیوں کی مدد سے باآسانی ممکن ہوں انھیں ناخنوں کی مدد سے ہرگز نہ کریں جن میں کسی گرہ کا کھولنا، کسی پیکنگ پر سے لگے ٹیپ کو اتارناوغیرہ۔

٭ کوشش کریں ہاتھوں کو زیادہ سے زیادہ صاف رکھیں، اور اگر دستانے پہنیں تو یہ بہت حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔

ناخن بڑھانے کے لیے : (groom long nails)

دو عدد لیموں کے رس میں اتنی پھٹکری شامل کریں کہ یہ گاڑھا ہوجائے، پھرصاف روئی کی مدد سے اسے ناخنوں پر لگائیں، کم سے کم آدھا گھنٹا اسے لگا چھوڑ دیں ، خشک ہونے پر دھولیں، ناخن بڑھنے کا عمل شروع ہوجائے گا۔

ناریل کا تیل اچھا اینٹی آکسائیڈنٹ ہے اور ناخنوں کو فری ریڈیکلز کے نقصان سے تحفظ فراہم کرتا ہے

ناریل کا تیل ناخنوں کے اندر جمے ہوئے میل اور فنگس کو ختم کرنے میں بہت اہم ہے۔

ناریل کا تیل گرم کر کے ناخنوں کے اطراف میں لگانے سے ناخن سیدھے اور شیپ میں رہتے ہیں۔

ناخنوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک گلاس پانی میں سیب کا سرکہ شامل کر کے انگلیوں کو اس میں ڈبو دیں، ناخن مضبوط ہوجائیں گے۔

اگر ناخنوں کی بہتر نشوونما چاہتے ہیں تو وٹامن سی سے بھرپور لیموں کو مت بھولیے، ایک کپ پانی میں ایک لیموں نچوڑ کر اس میں انگلیوں کو بھیگا رہنے دیں ، واضح فرق خود نظر آئے گا۔

زیتون کا تیل ناخنوں کو چمک دار بناتا ہے، اس کو ٹھنڈا یا ہلکا گرم کرکے ناخنوں پر لگانے سے ناخنوں میں چمک پیدا ہوجاتی ہے۔

ناخن بڑھانے کے لیے انڈے کی زردی اور شہد ملا کر لگانے سے ناخن بڑھنے کا عمل تیز ہوجاتا ہے ۔

ناخن پر اگر سفید یا برائون نشان نمودار ہو رہے ہیں تو بادام کا تیل نیم گرم کر کے اسے ناخنوں کے چاروں طرف ہلکے ہاتھوں سے لگائیں پھر دیکھیں اس کا کمال۔

ناخنوں کی نشوونما کے لیے فیٹی ایسڈز بہت ضروری ہے، اور اس کو حاصل کیا جاسکتا ہے السی کے تیل سے، السی کا تیل ناخنوں کے کناروں پر لگائیں ، ناخنوں کی نشوونما بہت تیزی سے ہوگی۔

ناخن اور بیماری کی علامات : (nails and diseases symptoms)

٭ جسم میں آئرن کی کمی سے ناخن پیلے ہوجاتے ہیں ، ان کو سفید بنانے کے لیے ایسی غذائیں لیں جن میں آئرن پایا جاتا ہے۔

٭ اگر ناخن زیادہ موٹے ہیں تو ان پر توجہ مرکوز کرلیں اس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

٭ اگر آپ کے ناخنوں پر لکیریں نظر آتی ہیں تو اس کا فوری طور پر علاج کریں، یہ ملانوما نام کی ایک بیماری ہوتی ہے جس سے ناخنوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

٭ اگر ناخنوں میں گڑھے دکھائی دیں توجتنی جلدی ممکن ہو ڈاکٹر سے رجوع کریں یہ ایک ایسی بیماری کی علامت ہوتا ہے جو ناخنوں کو اندر سے گلا دیتی ہے۔

٭ اگر آپ کے تھائی رائیڈ گلینڈ میں خرابی ہے تو اس بات کے لیے تیار رہیں کہ اس کی وجہ سے آپ کے ناخن بار بار ٹوٹ سکتے ہیں، اس بیماری سے ناخن کمزورہوجاتے ہیں۔

٭ اگر آپ پروٹین مکمل طور پر نہیں لیتے تو یہ بات آپ کے ناخن پر پڑی لکیریں اچھی طرح واضح کردیتی ہیں۔

٭ آکسیجن کی کمی کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ آپ کے ناخن نیلے پڑنے لگتے ہیں ، اگر ایسی صورت حال کا سامنا ہو تو ڈاکٹر کی خدمات فوری حاصل کریں۔

٭ بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر ناخن پر سفید نشان نظر آئیں تو اس کا مطلب جسم میں کیلشیم کی کمی ہے، مگر ایسا ہر گز نہیں ہے اس کی اور وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن کیلشیم کی کمی اس کی وجہ کسی صورت میں بھی نہیں ہوتی۔