جلد کی اقسام

0

صحت مند جلد کی چار اقسام ہیں نارمل ،خشک ،چکنی اور ملی جلی جلد۔ جلد کی ساخت کا زیادہ تر دارو مدار جسم کے اندرونی اور بیرونی عوامل پر ہوتا ہے۔

 

نارمل جلد :

نارمل جلد سے مرادمتوازن جلد ہے اس میں ماتھا تھوڑی اور ناک کا حصہ تو چکنا ہوتا ہے لیکن پورے چہرے پر سیبم اور نمی مناسب مقدار میں ہوتی ہے اس لئے جلد نہ ذیادہ خشک اور نہ ہی زیادہ چکنی ہوتی ہے۔

نارمل جلد کی پہچان :
٭ باریک مسام
٭ اچھا دوران خون
٭ نرم اور ملائم بناوٹ
٭ داغ دھبوں سے پاک
٭ تروتازہ جلد
٭ نارمل جلد حساس بھی نہیں ہوتی

 

خشک جلد :

خشک جلد نارمل جلد کے مقابلے میں کم سیبم پیدا کرتی ہے۔ خشک جلدمیں لپڈ کم ہوتا ہے جو جلد کو نمی فراپم کرنے کے ساتھ بیرونی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے حفاظتی تہ بھی بناتا ہے۔ خشک جلد میں لپڈ کی کمی کی وجہ سے جلد پر حفاظتی تہ نہیں بن پاتی جس کی وجہ سے جلد کو مسائل کا سامنہ کرنا پڑتا ہے۔عام طور پر مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی جلد زیادہ خشک ہوتی ہے۔عمر کے ساتھ ساتھ جلد کی خشکی میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔
جلد کی نمی برقرار رکھنے کے لئے جلد کی تہوں میں پانی کا ہونا ضروری ہے ۔پانی کی کمی جلد کی خشکی کا باعث بنتی ہے ۔

 

خشک جلد کی وجوہات:

٭ یوریا ،امائنو ایسڈاور لیکٹک ایسڈ کی کمی جو جلد میں پانی کو جمع رکھتی ہے۔
٭ سیرامائڈز،فیٹی ایسڈ اورکولیسٹرول کی کمی جو صحت مند جلد کی حفاظتی تہ بناتی ہے۔
اس کے نتیجے میںجلد کو نقصان کا سامنہ ہوتا ہے۔

 

خشک جلد کی اقسام :

خشک جلد :

یہ نارمل جلد سے تھوڑی زیادہ خشک ہوتی ہے۔خشک،سخت، کھردر ی اور بے رونق محسوس ہوتی ہے۔جلد میں کھنچائو بھی کم ہوتا ہے۔

 

بہت ذیادہ خشک جلد :

اگر جلد کی خشکی کا علاج نہ کیا جائے تو جلد کھردری اور تہ دار بن جاتی ہے ۔جلد میں کھنچائو محسوس ہوتا ہے اورخارش بھی ہو سکتی ہے۔ایسی جلدزیادہ حساس ہو جاتی ہے جس میں سوزش،سرخی اور انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

 

ملی جلی جلد:

اس طرح کی جلد کہیں خشک اور کہیں چکنی ہوتی ہے۔چہرے پر گالوں اورآنکھوں کے گرد جلد خشک ہوتی ہے جبکہ ماتھے ،ناک اور تھوڑی پر چکنی ہوتی ہے۔ اس طرح چکنی اور خشک دونوں اعتبار سے جلد کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔

 

حساس جلد :

یہ جلد کی کوئی قسم تو نہیں لیکن کیونکہ جلدی اثر قبول کرتی ہے اس لئے حساس کہلاتی ہے ۔عام طور پر اسکن پروڈکٹس کے استعمال کی وجہ سے جلدپر سرخی ،خارش ،جلن یا خشکی ہو جاتی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کی جلد حساس ہے۔

 

میچیور اسکن:

عمر کے بڑھنے کے ساتھ جلد میں سیبم کی پیداوار کم ہوتی جاتی ہے جس سے خشکی بڑھتی ہے اور چہرے پر جھریاں پڑنے لگتی ہیں ۔جلد بد رونق ہونے لگتی اور خارش یا جلن بھی ہوتی ہے۔ادھیڑ عمر کی خواتین میں ہارمونز کی تبدیلی سے جلد میںیہ تبدیلیاں رونماء ہوتی ہیں ۔پیریڈز بند ہونے کے بعد خواتین کی جلد پتلی ہوکر زیادہ حساس ہو جاتی ہے اور دھوپ اور سخت موسم کا فوری اثر قبول کرتی ہے خاص طور پر دھوپ میںزیادہ وقت رہنے سے ہائپر پگمنٹیشن کا خطرہ ہوتا ہے۔ضروری نہیں کہ چالیس سال کی عمر کے بعد ہر ایک کو یہ مسئلہ درپیش ہو اس لئے سب کو اپنی جلد کی ساخت کے حساب سے اپنی جلد کا خیال رکھنا چاہئے۔